تسبیح
معنی
١ - خدا کو پاکی سے یاد کرنا، خدا کی پاکیزگی بیان کرنا۔ "ذکر کی بابت جو کچھ بھی بیان ہو چکا ہے اس کے علاوہ وہ تین اور بھی بیان کئے جاتے ہیں وہ تین یہ ہیں، تسبیح تحمید، تکبیر۔" ( ١٩٢٨ء، مرزا حیرت، حیات طیبہ، ٩٧ ) ٢ - سودانوں کی مالا، سجہ، سمرن۔ "ہاتھ میں پرانی وضع کے بزرگوں کی جریب، اکثر تسبیح بھی ہاتھ میں ہوتی تھی۔" ( ١٩١٠ء، مکاتیب امیر مینائی، ١٣ ) ٣ - [ مجازا ] ورد، وظیفہ، یاد کرنا، بار بار یاد کرنا۔ ہوائے شوق میں شاخیں جھکیں خالق کے سجدے کو ہوئی تسبیح میں مصروف ہر پتی زباں ہو کر ( ١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ١٣٧:١ ) ٤ - [ مجازا ] رٹ، بار بار ذکر کرنا، کسی کو بہت زیادہ یاد کرنا۔ "نام سے تو اتنی نفرت اور پھر دن رات اسی کی تسبیح۔" ( ١٨٨٥ء، فسانۂ مبتلا، ٢٢٢ ) ٦ - سبحان اللہ سبحان اللہ کہنا، خدا کو یاد کرنا۔ "فرمایا حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ جب حادث ہو کوئی حادثہ تو تسبیح کہے۔" ( ١٨٦٧ء، نورالہدایہ، ١٣٤ ) ٧ - [ مجازا ] سو مرتبہ "ایک تسبیح صبح و شام پڑھ لیا کرو۔" ( ١٩٢٦ء، نوراللغات )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزیدفیہ کے باب تفعیل سے مصدر ہے اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو حسن شوقی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - خدا کو پاکی سے یاد کرنا، خدا کی پاکیزگی بیان کرنا۔ "ذکر کی بابت جو کچھ بھی بیان ہو چکا ہے اس کے علاوہ وہ تین اور بھی بیان کئے جاتے ہیں وہ تین یہ ہیں، تسبیح تحمید، تکبیر۔" ( ١٩٢٨ء، مرزا حیرت، حیات طیبہ، ٩٧ ) ٢ - سودانوں کی مالا، سجہ، سمرن۔ "ہاتھ میں پرانی وضع کے بزرگوں کی جریب، اکثر تسبیح بھی ہاتھ میں ہوتی تھی۔" ( ١٩١٠ء، مکاتیب امیر مینائی، ١٣ ) ٤ - [ مجازا ] رٹ، بار بار ذکر کرنا، کسی کو بہت زیادہ یاد کرنا۔ "نام سے تو اتنی نفرت اور پھر دن رات اسی کی تسبیح۔" ( ١٨٨٥ء، فسانۂ مبتلا، ٢٢٢ ) ٦ - سبحان اللہ سبحان اللہ کہنا، خدا کو یاد کرنا۔ "فرمایا حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ جب حادث ہو کوئی حادثہ تو تسبیح کہے۔" ( ١٨٦٧ء، نورالہدایہ، ١٣٤ ) ٧ - [ مجازا ] سو مرتبہ "ایک تسبیح صبح و شام پڑھ لیا کرو۔" ( ١٩٢٦ء، نوراللغات )