تسمیہ
معنی
١ - نام رکھنا، موسوم کرنا۔ "ظاہر ہے کہ اس کو تسمیہ اشیاء کا زیادہ موقع تھا۔" ( ١٩١٦ء، گہواہ تمدن، ١٦٠ ) ٢ - [ فقہ ] (نماز وغیرہ میں) بسم اللہ الرحمن الرحیم، پڑھنا۔ "ثنا اور تعوذ اور تسمیہ آہستہ کہے۔" ( ١٨٦٧ء، نور الہدایہ، ٩٩ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٨٥١ء میں "عجائب القصص" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - نام رکھنا، موسوم کرنا۔ "ظاہر ہے کہ اس کو تسمیہ اشیاء کا زیادہ موقع تھا۔" ( ١٩١٦ء، گہواہ تمدن، ١٦٠ ) ٢ - [ فقہ ] (نماز وغیرہ میں) بسم اللہ الرحمن الرحیم، پڑھنا۔ "ثنا اور تعوذ اور تسمیہ آہستہ کہے۔" ( ١٨٦٧ء، نور الہدایہ، ٩٩ )