تسویہ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - برابر کرنا، برابری، ہمواری، درستی۔ "بعض اہل الرائے کا خیال ہے کہ اس تسویہ سے اہل کمال بد دل ہو جائیں گے۔"      ( ١٩٣٦ء، پریم چند، پریم بتیسی، ٤٤٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٨٩٧ء میں "تاریخ ہندوستان" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - برابر کرنا، برابری، ہمواری، درستی۔ "بعض اہل الرائے کا خیال ہے کہ اس تسویہ سے اہل کمال بد دل ہو جائیں گے۔"      ( ١٩٣٦ء، پریم چند، پریم بتیسی، ٤٤٥ )

اصل لفظ: سوی
جنس: مذکر