تسکین
معنی
١ - دلاسا، ڈھارس، اطمینان۔ تشفی۔ یہ آپ آتشیں ہے دریا خون ناحق کا مگر نفس شقی کی پیاس میں تسکین نہیں ہوتی ( ١٩٢٧ء، آیات وجدانی، ٢٦٧ ) ٢ - [ عروض و قواعد ] متحرک کو ساکن کرنا۔ "جہاں تسکین سے بحر بدلتی ہو یا کسی اور زحاف کا مل چل سکتا ہو وہاں تسکین نہ چاہیے۔" ( ١٨٧١ء، قواعد العروض، ٤٩ ) ٣ - افاقہ، آرام۔ "تسکین کے بدلے ایک ایسا نشتر تھا جو فوراً ہی دل کے پار ہو گیا۔" ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٢٢٠ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب تفعیل سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٠٢ء کو "باغ و بہار" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - [ عروض و قواعد ] متحرک کو ساکن کرنا۔ "جہاں تسکین سے بحر بدلتی ہو یا کسی اور زحاف کا مل چل سکتا ہو وہاں تسکین نہ چاہیے۔" ( ١٨٧١ء، قواعد العروض، ٤٩ ) ٣ - افاقہ، آرام۔ "تسکین کے بدلے ایک ایسا نشتر تھا جو فوراً ہی دل کے پار ہو گیا۔" ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٢٢٠ )