تسہیل
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - آسانی، سہولت، سہل کر دینا، (کام کو) آسان کرنا، ہموار کرنا۔ "ہندوستان میں فی الحال قوانین کی تسہیل و ترمیم بہت ہوئی۔" ( ١٩٠٤ء، آئین قیصری، ٨٨ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزیدفیہ کے باب تفعیل سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے "عجائب القصص" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - آسانی، سہولت، سہل کر دینا، (کام کو) آسان کرنا، ہموار کرنا۔ "ہندوستان میں فی الحال قوانین کی تسہیل و ترمیم بہت ہوئی۔" ( ١٩٠٤ء، آئین قیصری، ٨٨ )
اصل لفظ: سہل
جنس: مؤنث