تسہیم

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - حصے بنانا، حصے لگانا، ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔ "وقت تسہیم اشیا بعض چیزیں تو ایسی ہیں کہ ان کے چھوٹے حصے ہوسکتے ہیں۔"      ( ١٩١٧ء، علم المعیشت، ٤٥٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٩١٧ء میں "علم المعیشت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حصے بنانا، حصے لگانا، ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔ "وقت تسہیم اشیا بعض چیزیں تو ایسی ہیں کہ ان کے چھوٹے حصے ہوسکتے ہیں۔"      ( ١٩١٧ء، علم المعیشت، ٤٥٠ )

اصل لفظ: سہم
جنس: مؤنث