تشابہ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - مشابہت، مماثلت، آپس میں ایک دوسرے کے مانند ہونا۔ "مقامات اور باشندوں کے ناموں میں تطابق کے بجائے کبھی کبھی صرف تشابہ پر قناعت کرنی پڑتی ہے۔"      ( ١٩١٥ء، ارض القرآن، ٥٣:١ ) ٢ - تشبیہہ دینا۔  داغ چیچک سے تشابہ دیجیے انجم کو کیا چہرہ انور کو جب مہتاب سے نسبت نہیں      ( ١٨٤٦ء، دیوان مہر، ١٨٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٨٧٦ء میں "مضامین تہذیب الاخلاق" میں مستعمل ملتا ہے

مثالیں

١ - مشابہت، مماثلت، آپس میں ایک دوسرے کے مانند ہونا۔ "مقامات اور باشندوں کے ناموں میں تطابق کے بجائے کبھی کبھی صرف تشابہ پر قناعت کرنی پڑتی ہے۔"      ( ١٩١٥ء، ارض القرآن، ٥٣:١ )

اصل لفظ: شبہ
جنس: مذکر