تشبہ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - مشابہ ہونا، مانند ہونا۔ "سولتی قوم کے تشبہ سے نہیں بلکہ فارس کے رسم و رواج کے مطابق سلام کا دستور ایسا پڑ گیال ہے کہ رکوع کے قریب تک جھکنا ہوتا ہے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٦٩:٣ ) ٢ - تقلید، نقل۔ "ہم کو غیرقوموں کا تشبہ شرعاً ناجائز ہے۔"      ( ١٩٠٤ء، مقالات شبلی، ١٧٥:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٨٢٧ء میں "ہدایت المومنین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مشابہ ہونا، مانند ہونا۔ "سولتی قوم کے تشبہ سے نہیں بلکہ فارس کے رسم و رواج کے مطابق سلام کا دستور ایسا پڑ گیال ہے کہ رکوع کے قریب تک جھکنا ہوتا ہے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٦٩:٣ ) ٢ - تقلید، نقل۔ "ہم کو غیرقوموں کا تشبہ شرعاً ناجائز ہے۔"      ( ١٩٠٤ء، مقالات شبلی، ١٧٥:١ )

اصل لفظ: شبہ
جنس: مذکر