تشریح

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - کھول کر بیان کرنا، واضح کرنا؛ معافی وغیرہ کی تفہیم، وضاحت، صراحت۔ "اس خوبی سے تمام مطالب کی تشریح اور تنقید کرتے تھے کہ طلبا کو حیرت ہوتی تھی۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ١٤ ) ٢ - [ طب ]  وہ شعبہ جس میں اعضائے انسانی و حیوانی کی ترکیب اور اجزا چیر پھاڑ وغیرہ کے ذریعے بتلائے جاتے ہیں۔ "تشریح، شکلیات کی وہ شاخ ہے جس میں . ایک حیوان کے اندرونی اور بیرونی بڑے بڑے حصوں اور عضو کی بناوٹ کا حال معلوم کرتے ہیں۔"      ( ١٩٤٠ء، حیوانیات، ٤ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مزیدفیہ کے باب تفعیل سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کھول کر بیان کرنا، واضح کرنا؛ معافی وغیرہ کی تفہیم، وضاحت، صراحت۔ "اس خوبی سے تمام مطالب کی تشریح اور تنقید کرتے تھے کہ طلبا کو حیرت ہوتی تھی۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ١٤ ) ٢ - [ طب ]  وہ شعبہ جس میں اعضائے انسانی و حیوانی کی ترکیب اور اجزا چیر پھاڑ وغیرہ کے ذریعے بتلائے جاتے ہیں۔ "تشریح، شکلیات کی وہ شاخ ہے جس میں . ایک حیوان کے اندرونی اور بیرونی بڑے بڑے حصوں اور عضو کی بناوٹ کا حال معلوم کرتے ہیں۔"      ( ١٩٤٠ء، حیوانیات، ٤ )

اصل لفظ: شرح
جنس: مؤنث