تشویش
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - پریشانی، گھبراہٹ، تردد، فکر، سوچ۔ "جہاں تک مجھے معلوم ہے کوئی تشویش کی بات نہیں ہے۔" ( ١٩١٤ء، راج دلاری، ٦١ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب تفعیل سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٤٤ء کو "مفیدالاجسام" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - پریشانی، گھبراہٹ، تردد، فکر، سوچ۔ "جہاں تک مجھے معلوم ہے کوئی تشویش کی بات نہیں ہے۔" ( ١٩١٤ء، راج دلاری، ٦١ )
اصل لفظ: شوش
جنس: مؤنث