تصبیغ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - [ لفظا ]  رنگ کرنا، (مجازاً) مالش، لیپ۔ "جب کھانی گلے میں گدگدی ہونے سے پیدا ہوتی ہو تو لسانی لوزہ پر صبغیہ آیوڈین کی تصبیغ کر دینے سے تسکین حاصل ہوتی ہے۔"      ( ١٩٤٨ء، عمل طب، ١٨١:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٩٤٨ء میں "عمل طب" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ لفظا ]  رنگ کرنا، (مجازاً) مالش، لیپ۔ "جب کھانی گلے میں گدگدی ہونے سے پیدا ہوتی ہو تو لسانی لوزہ پر صبغیہ آیوڈین کی تصبیغ کر دینے سے تسکین حاصل ہوتی ہے۔"      ( ١٩٤٨ء، عمل طب، ١٨١:١ )

اصل لفظ: صبغ
جنس: مؤنث