تصرفی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ کھانا جو نوکروں چاکروں کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ "غریب غربانے بھی کھانا پایا مگر وہی تصرفی یعنی پانی میں ابلا ہوا سالن اور دو ورقی روٹیاں۔"      ( ١٩٣٥ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ٢٠، ٣:٩ ) ٢ - نوکروں چاکروں کا، عام لوگوں کا۔ "بیلوں کی جوڑی جھولوں اور سنگونٹیوں سے آراستہ ایک تصرفی رتھ۔"      ( ١٩٠٥ء، رسوم دہلی، سید احمد، ٩٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٨٢٤ء میں "فسانہ عجائب" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ کھانا جو نوکروں چاکروں کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ "غریب غربانے بھی کھانا پایا مگر وہی تصرفی یعنی پانی میں ابلا ہوا سالن اور دو ورقی روٹیاں۔"      ( ١٩٣٥ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ٢٠، ٣:٩ ) ٢ - نوکروں چاکروں کا، عام لوگوں کا۔ "بیلوں کی جوڑی جھولوں اور سنگونٹیوں سے آراستہ ایک تصرفی رتھ۔"      ( ١٩٠٥ء، رسوم دہلی، سید احمد، ٩٢ )

اصل لفظ: صرف
جنس: مؤنث