تضئیق

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - تنگی، سکڑاؤ، بھنچاؤ۔ "اس اثنا میں مبدء معا کی دیوار میں ایک تضئیق پیدا ہوتی ہے جس سے آکنئیر ان کا ایک حصہ جنین میں محصور ہو جاتا ہے اور ایک حصہ باہر رہ جاتا ہے۔"      ( ١٩٣٩ء، مبادی جنینیات، ٢٦ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٨٤٧ء میں "حملات حیدری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تنگی، سکڑاؤ، بھنچاؤ۔ "اس اثنا میں مبدء معا کی دیوار میں ایک تضئیق پیدا ہوتی ہے جس سے آکنئیر ان کا ایک حصہ جنین میں محصور ہو جاتا ہے اور ایک حصہ باہر رہ جاتا ہے۔"      ( ١٩٣٩ء، مبادی جنینیات، ٢٦ )

اصل لفظ: ضاق
جنس: مؤنث