تضاعف

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بڑھوتری، کسی چیز کی مقدار کا بڑھنا، دوگنا یا کئی گنا زیادہ ہونا، دو چند ہونا۔ "دوسرے کے تضاعف عذاب کو اپنے لیے موجب شفا. سمجھ رہے ہو۔"      ( ١٩٧١ء، مصارف القرآن، ٥٥٥:٣ ) ٢ - اعداد و حروف کو مضاعف اور دو چند کرنا۔ "استخراج موکلات بسط قضاعف سے بھی کرتے ہیں۔"      ( ١٨٩٠ء، جواہرالحروف، ٧٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٩٠ء میں "جواہر الحروف" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بڑھوتری، کسی چیز کی مقدار کا بڑھنا، دوگنا یا کئی گنا زیادہ ہونا، دو چند ہونا۔ "دوسرے کے تضاعف عذاب کو اپنے لیے موجب شفا. سمجھ رہے ہو۔"      ( ١٩٧١ء، مصارف القرآن، ٥٥٥:٣ ) ٢ - اعداد و حروف کو مضاعف اور دو چند کرنا۔ "استخراج موکلات بسط قضاعف سے بھی کرتے ہیں۔"      ( ١٨٩٠ء، جواہرالحروف، ٧٤ )

اصل لفظ: ضعف
جنس: مذکر