تضرع
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - عجزو نیاز، گریہ و زاری، گڑگڑانا، رونا۔ "قیس نے دست دعا اٹھائے اور . تضرع سے . دعا مانگی۔" ( ١٩٤٠ء، یلدرم، حکایت لیلی و مجنوں، ٢٨ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٨٠١ء میں "باغ اردو" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - عجزو نیاز، گریہ و زاری، گڑگڑانا، رونا۔ "قیس نے دست دعا اٹھائے اور . تضرع سے . دعا مانگی۔" ( ١٩٤٠ء، یلدرم، حکایت لیلی و مجنوں، ٢٨ )
اصل لفظ: ضرع
جنس: مؤنث