تضویہ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - پھرنا، مائل کرنا، جھکانا؛ روشن کرنا۔ "المختصر تفرید تضویہ کا باعث ہوتا ہے اور اس میں خصوصیات کو ثبات دیدینے کا اقتضا ہوتا ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، جدید سائنس، ٣٢٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٩٦٩ء میں "جدید سائنس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پھرنا، مائل کرنا، جھکانا؛ روشن کرنا۔ "المختصر تفرید تضویہ کا باعث ہوتا ہے اور اس میں خصوصیات کو ثبات دیدینے کا اقتضا ہوتا ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، جدید سائنس، ٣٢٤ )

اصل لفظ: ضوی
جنس: مذکر