تطلیہ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - تیل ملنا، تیل سے مالش کرنا؛ طلا لگانا۔ "روغن مالی و روغن چکانی کو تطلیہ اور تجریع کہتے ہیں۔"      ( ١٩٣٨ء، آئین اکبری، ١، ٢٧٦:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٩٣٨ء میں "آئین اکبری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تیل ملنا، تیل سے مالش کرنا؛ طلا لگانا۔ "روغن مالی و روغن چکانی کو تطلیہ اور تجریع کہتے ہیں۔"      ( ١٩٣٨ء، آئین اکبری، ١، ٢٧٦:١ )

اصل لفظ: طلا
جنس: مذکر