تطمیع
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - لالچ دینا، طمع دینا، لالچ۔ "تخویف و تطمیع دونوں پیغمبر صاحب کے حق میں بے اثر تھیں۔" ( ١٩٠٧ء، اجتہاد، ٧٢ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٨٩١ء میں "ایامٰی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - لالچ دینا، طمع دینا، لالچ۔ "تخویف و تطمیع دونوں پیغمبر صاحب کے حق میں بے اثر تھیں۔" ( ١٩٠٧ء، اجتہاد، ٧٢ )
اصل لفظ: طمع
جنس: مؤنث