تعال

قسم کلام: حرف دعائیہ ( واحد )

معنی

١ - آنا باعث برکت و بزرگی ہو (خوش آمدید کہنے کے موقع پر مستعمل)۔ "اع مرحبا مرحبا، تعال تعال۔"      ( ١٩٠٨ء، مضامین شرر، ١، ٧١:٢ ) ٢ - [ لفظا ]  بزرگ و برتر ہوا، بلند، برتر، بزرگ (اکثر اللہ کے نام کے ساتھ مستعمل)۔  بالطاف فرماں دہ ذوالجلال بفضلِ خداوند مولٰی تعال      ( ١٨٧٣ء، مناجات ہندی، ١٠٦ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور حرف مستعمل ہے ١٧٩٨ء میں "دیوان سوز" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آنا باعث برکت و بزرگی ہو (خوش آمدید کہنے کے موقع پر مستعمل)۔ "اع مرحبا مرحبا، تعال تعال۔"      ( ١٩٠٨ء، مضامین شرر، ١، ٧١:٢ )

اصل لفظ: عال