تعجب

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - حیرت، اچنبھا، حیرانی۔ "اس خاموشی نے تعجب اور اشتیاق کے تیل کو اور چھینٹا دیا۔"      ( ١٩٣٦ء، راشدالخیری، نالۂ زار، ٥١ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مزید فیہ کے باب تَفَعُّل سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٤٩ء کو "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حیرت، اچنبھا، حیرانی۔ "اس خاموشی نے تعجب اور اشتیاق کے تیل کو اور چھینٹا دیا۔"      ( ١٩٣٦ء، راشدالخیری، نالۂ زار، ٥١ )

اصل لفظ: عجب
جنس: مذکر