تعذیب
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - عذاب، سزا، دکھ، تکلیف۔ "١٢٦٨ء میں وہ پھر آکسفورڈ واپس آیا لیکن اب بھی وہ تعذیب سے بچ نہ سکا۔" ( ١٩٤٥ء، طبیعیات کی داستان، ٨٥:١ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٨٣٤ء میں "مثنوی ناسخ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - عذاب، سزا، دکھ، تکلیف۔ "١٢٦٨ء میں وہ پھر آکسفورڈ واپس آیا لیکن اب بھی وہ تعذیب سے بچ نہ سکا۔" ( ١٩٤٥ء، طبیعیات کی داستان، ٨٥:١ )
اصل لفظ: عذب
جنس: مذکر