تعسیف
معنی
١ - بھٹکے کی حالت۔ "حضرت خاقانی. کی سیرت کحریمی کا ملاحظہ کحرنا کافی ہے اس لیے کہ بے شائبہ تکلیف و تعسیف کے باقتضائے تدوین کتاب ایجاد تکوین کے حضحہ الواح قابلیات انسانی کو کمالات نفسانی کے ارقام سے منقش کر دے۔" ( ١٨٠٥ء، جامع الاخلاق، ٣٢٣ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ملتا ہے ١٨٠٥ء میں "جامع الاخلاق" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بھٹکے کی حالت۔ "حضرت خاقانی. کی سیرت کحریمی کا ملاحظہ کحرنا کافی ہے اس لیے کہ بے شائبہ تکلیف و تعسیف کے باقتضائے تدوین کتاب ایجاد تکوین کے حضحہ الواح قابلیات انسانی کو کمالات نفسانی کے ارقام سے منقش کر دے۔" ( ١٨٠٥ء، جامع الاخلاق، ٣٢٣ )