تعصیب

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - میراث دلانا، بھوکا رکھنا۔ "تضعیف و تعصیب، نکاح و طلاق کحا اختیار. ان تمام باتوں میں اللہ تعالٰی نے فضل و شرف عنایت فرمایا ہے۔"      ( ١٩٦٤ء، کمالین، ٥، ١٦ ) ٢ - [ طب ]  (سر پر) پٹی باندھنا (مخزن الجواہر، 247)۔

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٩٦٤ء میں "کمالین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - میراث دلانا، بھوکا رکھنا۔ "تضعیف و تعصیب، نکاح و طلاق کحا اختیار. ان تمام باتوں میں اللہ تعالٰی نے فضل و شرف عنایت فرمایا ہے۔"      ( ١٩٦٤ء، کمالین، ٥، ١٦ )

جنس: مؤنث