تعنت
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - عیب جوئی، طعن و تشنیع، بدگوئی۔ کمال فضل نے اس کے حریفوں کے تعنتِ سے بجالی آبروے رفتہ علم و فن یونان کی ( ١٩١٩ء، کلیات رعب، ٢٩٢ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٦٠ء میں "فیض الکریم" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: عنت
جنس: مذکر