تعویذ
معنی
١ - پناہ میں لینا، بچاؤ۔ (نوراللغات) ٢ - کوئی دعا یا آیت یا اسمائے الٰہی یا ان کے اعداد نیز مختلف الفاظ و اعداد جو سادہ یا بطور نقش لکھ کر گلے میں ڈالا یا بازو پر باندھا جاتا ہے، وہ کاغذ جس پر یہ کلمات لکھے ہوں (تعویذ کو حصول مطلب کے لیے کبھی دریا میں بہاتے کبھی جلاتے کبھی کنویں میں ڈالتے کبھی زمین میں دفن کرتے ہیں)۔ ہاتھ ملتا ہے یہی دل کوئی دل جو نہ ملا جو بناتا ہمیں تعویذ وہ بازو نہ ملا ٣ - ایک زیور جو عورتیں بازو پر باندھتی ہیں، بازوبند۔ "بازو پر بازو بند کہیے یا تعویذ۔" ( ١٩٤٦ء، شیرانی، مقالات، ٢٢ ) ٥ - وہ پتھر جو قبر کے چبوترے کے اوپر بیچ میں رکھا جاتا ہے، کوہان قبر، سنگ لحد، لوح مزار۔ مرا تعویذ مرقد اک فرد دفتر غم ہے سبق عبرت کا لینا ہو جسے لے لے وہ مدفن سے ( ١٩٢٤ء، اعجاز نوح، ٢٣٠ ) ٦ - کتبہ یا لوح جو مسجد یا دوسری عمارتوں پر نصب کی جاتی ہے۔ "غدر کے بعد جب یہ مسجد فوجی قبضے میں آئی تھی تو تعویذ اکھیڑ ڈالا گیا تھا۔" ( ١٩٠٣ء، چراغ دہلی، مرزا حیرت، ٣٦١ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مزید فیہ کے باب تفعیل سے مصدر ہے اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦١١ء کو قلی قطب شاہ کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٣ - ایک زیور جو عورتیں بازو پر باندھتی ہیں، بازوبند۔ "بازو پر بازو بند کہیے یا تعویذ۔" ( ١٩٤٦ء، شیرانی، مقالات، ٢٢ ) ٤ - جھومر سے مشابہ جڑاؤ زیور جو عورتیں سر پر پہنتی ہیں۔ "زیور یہ تھا، سر پر تعویذ (جو جھومر سے ملتے جلتے جڑاؤ ہوتے ہیں)، کانوں میں جھمکے جڑاؤ۔ ٦ - کتبہ یا لوح جو مسجد یا دوسری عمارتوں پر نصب کی جاتی ہے۔ "غدر کے بعد جب یہ مسجد فوجی قبضے میں آئی تھی تو تعویذ اکھیڑ ڈالا گیا تھا۔" ( ١٩٠٣ء، چراغ دہلی، مرزا حیرت، ٣٦١ )