تعیش

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - عیش پرستی، عیش کرنا، عیش و عشرت (بناؤ سنْگار لہو و لعب زیب و زینت وغیرہ) کا سامان مہیا کرنا۔ "پہلے کی طرح تعیقش اور کاہلی نے اس کو عیش و غفلت کے بستر پر تھپک تھپک کر سلا دیا۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٥٢:٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مزید فیہ کے باب 'تَفَعُّل' کے وزن پر مشتق اسم ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٨٦٧ء کو "شعلہ حوالہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عیش پرستی، عیش کرنا، عیش و عشرت (بناؤ سنْگار لہو و لعب زیب و زینت وغیرہ) کا سامان مہیا کرنا۔ "پہلے کی طرح تعیقش اور کاہلی نے اس کو عیش و غفلت کے بستر پر تھپک تھپک کر سلا دیا۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٥٢:٣ )

اصل لفظ: عاش
جنس: مذکر