تغریر

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - خود کو یا کسی کو ہلاکت میں ڈالنے کا عمل۔ "یہ بات بادشاہ کے حق میں تہوار یعنی بے باکا نہ کسی چیز میں جا پڑنا اور سبکی و تعزیر یعنی اپنے آپ کو خطرے میں ڈالنا ہے۔"      ( ١٨٨٨ء، تشنیف الاسماع، ٩٩ ) ٢ - غرور کرنا، مشک کو بوتل کو پانی سے پر کرنا، پرندے کا اڑنے کے لیے پر تولنا، بچے کے دانت نکلنے کا عمل۔ (فرہنگ آنند راج)۔

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٨٨ء میں "تشنیف الاسماع" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خود کو یا کسی کو ہلاکت میں ڈالنے کا عمل۔ "یہ بات بادشاہ کے حق میں تہوار یعنی بے باکا نہ کسی چیز میں جا پڑنا اور سبکی و تعزیر یعنی اپنے آپ کو خطرے میں ڈالنا ہے۔"      ( ١٨٨٨ء، تشنیف الاسماع، ٩٩ )

اصل لفظ: غرر
جنس: مؤنث