تغلیط

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - تردید، غلط قرار دینا۔ "ادب کے قدیم نظریے کی تردید و تغلیط کی جا رہی ہے۔"      ( ١٩٤٠ء، دستور الاصلاح، ١٨ ) ٢ - کسی کلیہ کو دلائل سے رد کرنا۔ "بطلیموس کے دعوے کی تغلیط کی زاویہ وقوع اور زاویہ انعطاف کی نسبت مستقل ہوتی ہے۔"      ( ١٩٤٥ء، طبیعیات کی داستان، ٥٩:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٨٧٦ء میں "تہذیب الاخلاق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تردید، غلط قرار دینا۔ "ادب کے قدیم نظریے کی تردید و تغلیط کی جا رہی ہے۔"      ( ١٩٤٠ء، دستور الاصلاح، ١٨ ) ٢ - کسی کلیہ کو دلائل سے رد کرنا۔ "بطلیموس کے دعوے کی تغلیط کی زاویہ وقوع اور زاویہ انعطاف کی نسبت مستقل ہوتی ہے۔"      ( ١٩٤٥ء، طبیعیات کی داستان، ٥٩:١ )

اصل لفظ: غلط
جنس: مؤنث