تف

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - حرارت، تپش، سوز، گرمی۔  جب تک جلا نہ دے تف سوز دروں مجھے ممکن نہیں کہ آے قرار و سکوں مجھے      ( ١٩٣١ء، بہارستان، ٦٤١ ) ٢ - شعلہ، آگ۔  بجھی سینے کی تف ہر گز نہ میری ایک دم یارو کیا پی پی کے آنسو آب میں ہر چند آتش میں      ( ١٧٨٠ء، کلیات سودا، ١٠١:١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٨٤ء میں "سحرالبیان" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مذکر