تفاخر

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - فخر، ناز، بڑائی ظاہر کرنا، باہم فخر کرنا۔ "شجاعان عرب کا دستور ہے کہ لڑائی کے موقع پر بہادروں کو ابھاروں کو ابھارنے اکسانے کے لیے اپنے تفاخر کے اظہار میں اشعار پڑھتے ہیں۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٢٥٤:٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٣٨ء میں "ستہ شمسیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - فخر، ناز، بڑائی ظاہر کرنا، باہم فخر کرنا۔ "شجاعان عرب کا دستور ہے کہ لڑائی کے موقع پر بہادروں کو ابھاروں کو ابھارنے اکسانے کے لیے اپنے تفاخر کے اظہار میں اشعار پڑھتے ہیں۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٢٥٤:٣ )

اصل لفظ: فخر
جنس: مذکر