تفت

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - تپتا ہوا، گرم، سوختہ۔  انہی گرم گنکری انگاریاں تے تیز دیسین تفت بالوبی چنگیاں کی ریز      ( ١٦٥٧ء، گلشن عشق، ١١٠ ) ٢ - غصہ میں بھرا ہوا، قہر آلودہ، غضبناک۔  منگی اس کوں کھانے کی تئیں تفت ہو کلیجا منگی کھاونے مفت ہو      ( ١٦٢٥ء، سیف الملوک و بدیع الجمال، ١٩ ) ١ - ڈالی، میووں کی ڈالی: ایک پیالہ جو میوہ جات اور پھول رکھنے کے لیے بنایا جاتا ہے، میووں کی ٹوکری، بطور دوا استعمال ہونے والی ایک گھاس اور اس کی جڑ (فرہنگ آنندراج: فرہنگ نظام: لغات کشوری، غیاث اللغات)۔ ٢ - گرمی، حرارت (پلیٹس)۔

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٥٧ء میں "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔