تفتیح

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کھل جانا، کشادگی، تشریح، واضح ہونا۔ "اور جب سماع کرے تو کافی دیر کے بعد کرے تاکہ اس کی تفتیح تیرے دل سے محو نہ ہو۔"      ( ١٩٧٤ء، صبح، سہ ماہی، جولائی، ٥٣ ) ٢ - کھولنا (مسامات اور سدلے وغیرہ کا)۔ "اور قرص . تفتیح صدر کے لیے نہایت مفید ہے۔"      ( ١٨٧٣ء، تریاق مسموم، ٥٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٥١ء میں "عجائب القصص" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کھل جانا، کشادگی، تشریح، واضح ہونا۔ "اور جب سماع کرے تو کافی دیر کے بعد کرے تاکہ اس کی تفتیح تیرے دل سے محو نہ ہو۔"      ( ١٩٧٤ء، صبح، سہ ماہی، جولائی، ٥٣ ) ٢ - کھولنا (مسامات اور سدلے وغیرہ کا)۔ "اور قرص . تفتیح صدر کے لیے نہایت مفید ہے۔"      ( ١٨٧٣ء، تریاق مسموم، ٥٤ )

اصل لفظ: فتح
جنس: مؤنث