تفسیدہ

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - گرم، تپتا ہوا۔  کف آلودہ دریا و تفسیدہ صحرا وفا کی امید جس سے وہ غدار نکلا      ( ١٩٦٥ء، دشت شام، ١٦٨ ) ٢ - جھلسا ہوا۔  جب ہو گئی خزاں سے مبدل بہار بند تفسیدہ داغ غم سے ہوئے لالہ زار بند      ( ١٩٣٧ء، مہرشی درشن، ٥٤ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت ہے۔ اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٣٦ء میں "ریاض البحر" میں مستعمل ملتا ہے۔