تفضا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کسی مستحق شخص کو اس کے پورے حق کے بعد کچھ اور زیادہ دے دینا۔ "اگر کوئی شخص ضرورت سے زیادہ فیاضی کر دے اور وہ اسراف کی حد تک نہ پہنچی ہو تو یہ مذموم نہیں، بلکہ محمود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تفضا کا استعمال اس موقع پر کیا جاتا ہے جہاں عدالت کا استعمال ہوتا ہے۔"      ( ١٩٥٣ء، حکمائے اسلام، ٢٦٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٥٣ء میں "حکمائے اسلام" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کسی مستحق شخص کو اس کے پورے حق کے بعد کچھ اور زیادہ دے دینا۔ "اگر کوئی شخص ضرورت سے زیادہ فیاضی کر دے اور وہ اسراف کی حد تک نہ پہنچی ہو تو یہ مذموم نہیں، بلکہ محمود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تفضا کا استعمال اس موقع پر کیا جاتا ہے جہاں عدالت کا استعمال ہوتا ہے۔"      ( ١٩٥٣ء، حکمائے اسلام، ٢٦٢ )

اصل لفظ: فضا
جنس: مذکر