تفطیر

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - چرنا، پھٹنا، درز پڑنا، پرت الگ ہونا، دراڑ پڑنے کا عمل، کھل جانا۔ "اس ایک مخصوص قسم کے میلان کو اصطلاح میں تقطہیر کہتے ہیں۔ یعنی چر جانا۔"      ( ١٩١٦ء، طبقات الارض، ١٦٩ ) ٢ - کسی کا روزہ کھلوانا (لغات کشوری)۔

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩١٦ء میں "طبقات الارض" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چرنا، پھٹنا، درز پڑنا، پرت الگ ہونا، دراڑ پڑنے کا عمل، کھل جانا۔ "اس ایک مخصوص قسم کے میلان کو اصطلاح میں تقطہیر کہتے ہیں۔ یعنی چر جانا۔"      ( ١٩١٦ء، طبقات الارض، ١٦٩ )

اصل لفظ: فطر
جنس: مذکر