تفقد

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - توجہ، پرسش، التفات، مہربانی۔ "وہ ضرور تمہارا تفقد احوال کریں گے۔"      ( ١٩٠٧ء، اجتہاد، ٢٥١ ) ٢ - غم خواری، دل جوئی "پھر کس محکمے سے کہ وہ آج سلطنت کا دہندہ ہے میرے تفقد کا حکم بھجوایا۔"      ( ١٨٥٩ء، خطوط غالب، ٢٧٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٥٩ء میں "خطوط غالب" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - توجہ، پرسش، التفات، مہربانی۔ "وہ ضرور تمہارا تفقد احوال کریں گے۔"      ( ١٩٠٧ء، اجتہاد، ٢٥١ ) ٢ - غم خواری، دل جوئی "پھر کس محکمے سے کہ وہ آج سلطنت کا دہندہ ہے میرے تفقد کا حکم بھجوایا۔"      ( ١٨٥٩ء، خطوط غالب، ٢٧٧ )

اصل لفظ: فقد
جنس: مذکر