تفہیم

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - فہمائش، سمجھانا۔ "غیب سے علم پانے کا جو طریقہ ہے اسی کے ذیل میں وحی تحدیث تفہیم - جیسی چیزیں شامل ہیں۔"      ( ١٩٥٦ء، مناظر احسن گیلانی، عبقات، ٧ ) ٢ - آگاہی، سمجھ میں آنا، معلوم ہونا، علم میں آنا۔ "مدت ہوئی میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک سیاہ پوش فوج عربی گھوڑوں پر سوار ہے مجھے تفہیم ہوئی کہ یہ ملائکہ ہیں۔"      ( ١٩٣١ء، مکاتیب اقبال، ٢٥٢:٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب تَفْعیل سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں عربی سے معنی اور ساخت کے اعتبار سے بعینہ داخل ہوا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٨٨ء "سوانح عمری امیر علی ٹھگ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - فہمائش، سمجھانا۔ "غیب سے علم پانے کا جو طریقہ ہے اسی کے ذیل میں وحی تحدیث تفہیم - جیسی چیزیں شامل ہیں۔"      ( ١٩٥٦ء، مناظر احسن گیلانی، عبقات، ٧ ) ٢ - آگاہی، سمجھ میں آنا، معلوم ہونا، علم میں آنا۔ "مدت ہوئی میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک سیاہ پوش فوج عربی گھوڑوں پر سوار ہے مجھے تفہیم ہوئی کہ یہ ملائکہ ہیں۔"      ( ١٩٣١ء، مکاتیب اقبال، ٢٥٢:٢ )

اصل لفظ: فہم
جنس: مؤنث