تقاضا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - خواہش، اقتضا، مانگ، طلب، منشا، درخواست۔ "دن بھر تھکا دینے والے دماغی و جسمانی مصروفیت کا تقاضا یہ تھا کہ . آنکھ بند کر کے لیٹ جانا۔"      ( ١٩٢٤ء، مذاکرات نیاز، ٣ ) ٢ - مطالبہ، دعویٰ۔  فلک سے ہم کو عیش رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے متاعِ بُردہ کو سمجھے ہوئے قرض رہزن کا      ( ١٨٦٩ء، دیوانِ غالب، ٦٤ ) ٣ - ضورت، مطالبہ۔ "ریل کی سڑکوں کے بنانے کا جو تقاضا ہوتا ہے اس کی وہ فرمانبرداری کرتا ہے۔"      ( ١٩٠٧ء، کرزن، نامہ، ١٣٧ ) ٤ - طبعی رحجان، خواہش و عمر وغیرہ کے مختلف مدارج سے پیدا ہو، چاہنا۔ "عمر کا تقاضا ہے جو اس کا دل چاہے کر لینے دو۔"      ( ١٩٠١ء، حیاتِ جاوید، ٣٢ ) ٥ - کسی کام کے لیے بار بار کہنا، طلب کرنا۔ "مدینہ میں ایک یہودی رہتا تھا جس سے میں قرض لیا کرتا تھا . بہار آئی تو یہودی نے تقاضا شروع کیا۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٩٧:٢ ) ٦ - تاکید، اصرار۔ "باہر سے اسلامی (بیگم) کی روانگی کا تقاضا شروع ہوا۔"      ( ١٩١٨ء، انگھوٹھی کا راز، ٤٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٧٧٤ء کو "انتباہ الطالبین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خواہش، اقتضا، مانگ، طلب، منشا، درخواست۔ "دن بھر تھکا دینے والے دماغی و جسمانی مصروفیت کا تقاضا یہ تھا کہ . آنکھ بند کر کے لیٹ جانا۔"      ( ١٩٢٤ء، مذاکرات نیاز، ٣ ) ٣ - ضورت، مطالبہ۔ "ریل کی سڑکوں کے بنانے کا جو تقاضا ہوتا ہے اس کی وہ فرمانبرداری کرتا ہے۔"      ( ١٩٠٧ء، کرزن، نامہ، ١٣٧ ) ٤ - طبعی رحجان، خواہش و عمر وغیرہ کے مختلف مدارج سے پیدا ہو، چاہنا۔ "عمر کا تقاضا ہے جو اس کا دل چاہے کر لینے دو۔"      ( ١٩٠١ء، حیاتِ جاوید، ٣٢ ) ٥ - کسی کام کے لیے بار بار کہنا، طلب کرنا۔ "مدینہ میں ایک یہودی رہتا تھا جس سے میں قرض لیا کرتا تھا . بہار آئی تو یہودی نے تقاضا شروع کیا۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٩٧:٢ ) ٦ - تاکید، اصرار۔ "باہر سے اسلامی (بیگم) کی روانگی کا تقاضا شروع ہوا۔"      ( ١٩١٨ء، انگھوٹھی کا راز، ٤٠ )

اصل لفظ: قضی
جنس: مذکر