تقوی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - پرہیزگاری، پارسائی، خداترسی۔ "گھر سے زاد سفر لے کر چلو، کیونکہ اچھا زادِ سفر تقوٰی ہے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ١٢٣:٢ ) ٢ - احتیاط، پرہیزگاری میں مبالغہ کرنا۔ "طحاری میں ہے کہ قول اول مفتی بہ ہے اور قول ثانی محمول ہے تقوٰی پر۔"      ( ١٨٦٧ء، نورالہدایہ، ١٠:٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق کلمہ ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٧٩٠ء کو "دیوانِ قائم" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پرہیزگاری، پارسائی، خداترسی۔ "گھر سے زاد سفر لے کر چلو، کیونکہ اچھا زادِ سفر تقوٰی ہے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ١٢٣:٢ ) ٢ - احتیاط، پرہیزگاری میں مبالغہ کرنا۔ "طحاری میں ہے کہ قول اول مفتی بہ ہے اور قول ثانی محمول ہے تقوٰی پر۔"      ( ١٨٦٧ء، نورالہدایہ، ١٠:٤ )

اصل لفظ: وقی
جنس: مذکر