تلافی
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - (کسی نقصان یا کمی وغیرہ کا) عوض، بدل۔ نگاہ مڑکے دمِ اختصار کرتا جا تلافی ستمِ روز گار کرتا جا ( ١٩٤٠ء، کلیاتِ بیخود، ٨ ) ٢ - مکافات، پاداش۔ ہو گئی میرے پھنسانے کی تلافی غیب سے پھنس گئے آخر نہ تم بھی اپنے گھر کے کار میں ( ١٨٨٤ء، صابر، ریاض صابر، ١٥٢ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٨١٠ء کو "شاہ نامہ مُنشی" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: لفء
جنس: مؤنث