تم

قسم کلام: ضمیر شخصی ( واحد، جمع - حاضر )

معنی

١ - اسم ضمیر جمع حاضر کو خطاب کرنے کے لیے "تم کو علم ہوتا اور کتابیں پڑھتیں، اگلے پچھلے لوگوں کا حال معلوم ہوتا تو جانتیں"۔      ( ١٨٦٤ء، نصیحت کا کرن پھول، ١٢ ) ٢ - [ تعظیما ]  واحد حاضر کے لیے 'تو' کی جگہ اور اس کے معنوں میں  کون کہتا ہے جفا کرتے ہو تم شرط معشوقی وفا کرتے ہو تم      ( ١٧٣٩ء، کلیات سراج، ٣١٩ )

اشتقاق

سنسکرت میں 'توم' کی صورت میں تھا لیکن اردو میں 'تم' استعمال ہوتا ہے سب سے پہلے دیوانِ حسن شوقی میں ١٥٦٤ء میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اسم ضمیر جمع حاضر کو خطاب کرنے کے لیے "تم کو علم ہوتا اور کتابیں پڑھتیں، اگلے پچھلے لوگوں کا حال معلوم ہوتا تو جانتیں"۔      ( ١٨٦٤ء، نصیحت کا کرن پھول، ١٢ )