تمازت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - گرمی کی شدت، دھوپ کی تیزی۔  یہ لو یہ تمازت یہ حدت یہ حبس الٰہی عذاب سقر سے بچا      ( ١٩٥٢ء، قطعات، رئیس امروہی، ٣٦٢ ) ٢ - تمتماہٹ  اس کے چہرے پہ اب تمازت ہے اس کے غمزوں میں اب حرارت ہے      ( ١٩٣٧ء، نغمۂ فردوس، ١٥٣:٢ ) ٣ - [ مجازا ]  گرمی، تیزی (نگاہ کی) "یہ حرف جھکنے کا اثر تھا یا اس نگاہ کی تمازت، اس کے رخسار گلابی سے سرخ ہو گئے مگر سر نہ اٹھایا۔"      ( ١٩١٢ء، یاسمین، ١٤٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں یہ لفظ ایک دخیل کلمے "تموذ' (ترکی مہینہ بمطابق جولائی) سے ماخوذ ہے۔ اردو میں عربی سے اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٨٧٤ء کو "مراثی میر انیس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - [ مجازا ]  گرمی، تیزی (نگاہ کی) "یہ حرف جھکنے کا اثر تھا یا اس نگاہ کی تمازت، اس کے رخسار گلابی سے سرخ ہو گئے مگر سر نہ اٹھایا۔"      ( ١٩١٢ء، یاسمین، ١٤٩ )

جنس: مؤنث