تماشا
معنی
١ - دید، نظارہ، دیکھنا۔ تماشا کہ اے محوِ آسینہ داری تجھے کس تَمنّا سے ہم دیکھتے ہیں ( ١٨٦٩ء، دیوانِ غالب، ١٧٩ ) ٢ - دلچسپ منظر۔ مختلف شکلوں میں اس کو جلوہ گر دیکھا کئے یہ تماشا ہم تو بیٹھے عمر بھر دیکھا کئے ( ١٩١٩ء، درشہوار، بیخود، ٩٩ ) ٣ - حالت، کیفیت۔ ترے ہجر میں جان پر کھیلے کیا کیا تماشے رہے ہیں یہاں کیسے کیسے ( ١٩٠٣ء، نظم نگاریں، ١٣٢ ) ٤ - تفریح اور دل بستگی کا کھیل جس میں ناچ، گانا یا اُچھل کود ہو، ڈرامہ۔ "اس تماشا (ڈرامہ) کے حصے کر دیئے گئے۔" ( ١٩٣٩ء، ریزۂ مینا، ٩ ) ٥ - کرتب، شعبدہ، نمائش۔ "ولید بن عقبہ جو صحابی تھے کوفہ کے گورنر تھے ایک دفعہ ایک یہودی نے ان کے سامنے شعبدہ بازی کے تماشے دکھائے۔" ( ١٩٠٤ء، مقالاتِ شبلی، ١٩٥:١ ) ٦ - ہنسی کھیل، بازیچہ، آسان کام۔ "دنیا کی زندگی تو نرا کھیل تماشا ہے۔" ( ١٨٩٥ء، ترجمہ قرآن مجید، نذیر احمد، ٢٠٩ ) ٧ - عجب یا انوکھی بات۔ "عجیب تماشا ہے! وہ بولا تم پولیس والے بھی عجیب لوگ ہو۔" ( ١٩٤٤ء، صید و صیاد، ١٤٢ ) ٨ - ایسی شے یا حالت بن جانا جسے لوگ حیرت اور شوق سے دیکھیں۔ "فارسی کے مولوی صاحب ایک تماشا تھے، لمبا چہرہ سرخ و سفید رنگت. ہر وقت پان کھاتے رہتے تھے۔" ( ١٩٤٧ء، مضامینِ فرحت، ٥:٤ ) ٩ - دل لگی کی چیز، مذاق، تفریح طبع کا سامان ۔ "حسن آراء کے چوچلے اور اسکے نوکروں کی نازبرداریاں دیکھ کر. مکتب کی لڑکیوں کو اچھا خاصا تماشا مل گیا۔" ( ١٨٧٣ء، بنات النعش، ١٤ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بغور اسم ہی استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٤ - تفریح اور دل بستگی کا کھیل جس میں ناچ، گانا یا اُچھل کود ہو، ڈرامہ۔ "اس تماشا (ڈرامہ) کے حصے کر دیئے گئے۔" ( ١٩٣٩ء، ریزۂ مینا، ٩ ) ٥ - کرتب، شعبدہ، نمائش۔ "ولید بن عقبہ جو صحابی تھے کوفہ کے گورنر تھے ایک دفعہ ایک یہودی نے ان کے سامنے شعبدہ بازی کے تماشے دکھائے۔" ( ١٩٠٤ء، مقالاتِ شبلی، ١٩٥:١ ) ٦ - ہنسی کھیل، بازیچہ، آسان کام۔ "دنیا کی زندگی تو نرا کھیل تماشا ہے۔" ( ١٨٩٥ء، ترجمہ قرآن مجید، نذیر احمد، ٢٠٩ ) ٧ - عجب یا انوکھی بات۔ "عجیب تماشا ہے! وہ بولا تم پولیس والے بھی عجیب لوگ ہو۔" ( ١٩٤٤ء، صید و صیاد، ١٤٢ ) ٨ - ایسی شے یا حالت بن جانا جسے لوگ حیرت اور شوق سے دیکھیں۔ "فارسی کے مولوی صاحب ایک تماشا تھے، لمبا چہرہ سرخ و سفید رنگت. ہر وقت پان کھاتے رہتے تھے۔" ( ١٩٤٧ء، مضامینِ فرحت، ٥:٤ ) ٩ - دل لگی کی چیز، مذاق، تفریح طبع کا سامان ۔ "حسن آراء کے چوچلے اور اسکے نوکروں کی نازبرداریاں دیکھ کر. مکتب کی لڑکیوں کو اچھا خاصا تماشا مل گیا۔" ( ١٨٧٣ء، بنات النعش، ١٤ )