تمسخر
معنی
١ - مزاح، دل لگی، ٹھٹول۔ "ان کو دنیا و مافیہا میں کوئی کام نہیں محض نکمے ہیں سوائے تمسخر اور تضیع، اوقات انہیں کسی بات کی فکر نہیں۔" ( ١٩٠٠ء، شریف زادہ، ٢٩ ) ٢ - مذاق اڑانا۔ "یہ تجربہ کار مصور تھے اور ذرا مزاج میں تمسخر بھی تھا۔" ( ١٩٣١ء، رسوا، اختری بیگم، ٩٢ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے جو اردو میں اپنے اصل مفہوم و ساخت کے ساتھ بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٨٨٠ء کو "نیرنگِ خیال" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - مزاح، دل لگی، ٹھٹول۔ "ان کو دنیا و مافیہا میں کوئی کام نہیں محض نکمے ہیں سوائے تمسخر اور تضیع، اوقات انہیں کسی بات کی فکر نہیں۔" ( ١٩٠٠ء، شریف زادہ، ٢٩ ) ٢ - مذاق اڑانا۔ "یہ تجربہ کار مصور تھے اور ذرا مزاج میں تمسخر بھی تھا۔" ( ١٩٣١ء، رسوا، اختری بیگم، ٩٢ )