تمنا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - آرزو، طلب، خواہش۔  سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے اے بے خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے      ( ١٩٠٥ء، بانگِ درا، ١١٢ ) ٢ - اشتیاق، ارمان، چاؤ۔  تمنا تھی کہ ہم بھی جان اپنی نذر کر دیتے سوال اٹھا ہے مظلومانِ ترکی کی اعانت کا      ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ١٠ ) ٣ - توقع، امید۔  کیا جانے کیا تمنا رکھتے ہیں یار ہم سے اندوہ ایک جی کو اکثر رہا کرے ہے      ( ١٨١٠ء، کلیات میر، ٥٤٢ ) ٤ - [ قواعد ]  تمنائی، فعل ماضی کی چھ قسموں میں سے ایک قسم۔ اس فعل سے عموماً تمنا ظاہر ہوتی ہے۔ "ذیل کے جملوں سے وضع، شرط یا تمنا جدا جدا چھانٹو۔"      ( ١٩٤٠ء، قواعد اردو، ٩٦:٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں فارسی سے داخل ہوا اور اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٧١٣ء کو "دیوانِ فائز دہلوی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٤ - [ قواعد ]  تمنائی، فعل ماضی کی چھ قسموں میں سے ایک قسم۔ اس فعل سے عموماً تمنا ظاہر ہوتی ہے۔ "ذیل کے جملوں سے وضع، شرط یا تمنا جدا جدا چھانٹو۔"      ( ١٩٤٠ء، قواعد اردو، ٩٦:٢ )

اصل لفظ: منی
جنس: مؤنث