تمھارا

قسم کلام: ضمیر شخصی ( مذکر - واحد - حاضر )

معنی

١ - تم سب کا، تہارا، تھارا، آپ کا؛ حضور کا۔ "میں کنعان کا ملک تجھے دوں گا کہ تمھارا موروثی حصہ ہو۔"      ( ١٩٥١ء، کتاب مقدس، ٥٨٩ ) ٢ - میرا یا ہمارا کی جگہ اور اس کے معنی میں (بے تکلفی یا باہمی قرابت کے اظہار کے موقع پر) مستعمل۔ "نواب صاحب یہ فقرہ سن کر نکل گئے۔ کیا یہ کون بری بات ہے تمھارا باغ موجود ہے کہو گاڑی منگاؤں۔"      ( ١٨٨٩ء، سرکہسار، ١٥٦:١ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ ضمیر 'تم' کے بعد لاحقۂ نسبت 'ہارا' لانے سے بنا۔ اردو میں بطور ضمیر حاضر (ملکیتی حالت) استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سیف الملوک بدیع الجمال" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تم سب کا، تہارا، تھارا، آپ کا؛ حضور کا۔ "میں کنعان کا ملک تجھے دوں گا کہ تمھارا موروثی حصہ ہو۔"      ( ١٩٥١ء، کتاب مقدس، ٥٨٩ ) ٢ - میرا یا ہمارا کی جگہ اور اس کے معنی میں (بے تکلفی یا باہمی قرابت کے اظہار کے موقع پر) مستعمل۔ "نواب صاحب یہ فقرہ سن کر نکل گئے۔ کیا یہ کون بری بات ہے تمھارا باغ موجود ہے کہو گاڑی منگاؤں۔"      ( ١٨٨٩ء، سرکہسار، ١٥٦:١ )