تندی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - (کسی چیز کی کیفیت یا صفت میں) تیزی، طراری، زور، شدت۔  خانۂ یار میں تندی سے نہ چل باد صبا کاغذ نامہ مرا رخنہ دیوار میں ہے      ( ١٨٠٤ء، مصحفی، دیوان (انتخاب رامپور)، ٣٠٠ ) ٢ - غصہ، بدمزاجی، خشونت۔ "اس کی خلقی خشونت اور تندی غائب ہو گئی تھی۔"      ( ١٩٣٥ء، دودھ کی قیمت، ٤٧ ) ٣ - وفور شہوت، اِستادگئی عضو تناسل، نعوظ۔ "طبیعت بھی اس طرف سے ہٹنے لگتی ہے تندی اور خیزی کم ہو جاتی ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، عصائے پیری، ١٠٦ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم صفت 'تند' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگائی گئی ہے۔ فارسی سے اردو میں ساخت اور معنی کے اعتبار سے بعینہ داخل ہوا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٣٩ء کو "طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - غصہ، بدمزاجی، خشونت۔ "اس کی خلقی خشونت اور تندی غائب ہو گئی تھی۔"      ( ١٩٣٥ء، دودھ کی قیمت، ٤٧ ) ٣ - وفور شہوت، اِستادگئی عضو تناسل، نعوظ۔ "طبیعت بھی اس طرف سے ہٹنے لگتی ہے تندی اور خیزی کم ہو جاتی ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، عصائے پیری، ١٠٦ )

اصل لفظ: تُنْد
جنس: مؤنث