تنسیخ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ترک، رد، تردید۔ "ان کو بحثیت مسلمان کے اس اجازت میں ترمیم یا تنسیخ کا خیال کرنا بھی گناہ ہے"      ( ١٩٣٦ء، راشدالخیری، تربیت نسواں، ٧٤ ) ٢ - [ قانون ]  منسوخی، باطل قرار دینا، کالعدم کرنا "حکومت نے اپنے فیصلے کی خود ہی پور ہوشیاری سے تنسیخ کر دی"      ( ١٩١١ء، مکاتیب اقبال، ١٥٢:٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مزیدفیہ کے باب تفعیل سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے اردو میں عربی زبان سے ساخت اور معنی کے اعتبار سے بعینہ داخل ہوا۔

مثالیں

١ - ترک، رد، تردید۔ "ان کو بحثیت مسلمان کے اس اجازت میں ترمیم یا تنسیخ کا خیال کرنا بھی گناہ ہے"      ( ١٩٣٦ء، راشدالخیری، تربیت نسواں، ٧٤ ) ٢ - [ قانون ]  منسوخی، باطل قرار دینا، کالعدم کرنا "حکومت نے اپنے فیصلے کی خود ہی پور ہوشیاری سے تنسیخ کر دی"      ( ١٩١١ء، مکاتیب اقبال، ١٥٢:٢ )

اصل لفظ: نسخ
جنس: مؤنث