تنومند

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - موٹا تازہ، قوی، ہاتھ پیر کا مضبوط، تناور، شہ زور۔ "پشاور کابل کا گویا خاکہ ہے اکثر لوگ بلند و بالا، تنومند، سرخ و سفید اور قوی الجثہ ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٠٩ء، مقالاتِ شبلی، ١٩٣:٨٨ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'تن' کی معرفہ شکل 'تنو' کے بعد فارسی لاحقۂ صفت 'مند' لانے سے مرکب توصیفی بنا جو اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٨٧٠ء کو "خطبات احمدیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - موٹا تازہ، قوی، ہاتھ پیر کا مضبوط، تناور، شہ زور۔ "پشاور کابل کا گویا خاکہ ہے اکثر لوگ بلند و بالا، تنومند، سرخ و سفید اور قوی الجثہ ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٠٩ء، مقالاتِ شبلی، ١٩٣:٨٨ )