تنہا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - یکتا، لاثانی۔ "وجود میں بھی اور قدیم ہونے میں بھی وہ تنہا ہے۔"      ( ١٩٥٦ء، مناظر احسن گیلانی، عبقات، ١ ) ١ - اکیلا، جدا، تنہا۔ "دس ہزار دشمن کے بے پناہ تیروں کو یکہ و تنہا مناجات و زاری کی سپر پر روکنے کی جرات پیغمبروں کے سوا اور کس سے ظاہر ہو سکتی ہے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٦٤:٢ ) ٢ - صرف، فقط۔ "خواب میں حواس ظاہر معطل ہوتے ہیں اور روح یا نفس یا قوت متخیلہ تنہا کام کرتی ہے۔"      ( ١٩٠٦ء، الکلام، ٢١٢:٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم صفت ہے۔ ساخت اور معنی کے اعتبار سے اردو میں بعینہ داخل ہوا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - یکتا، لاثانی۔ "وجود میں بھی اور قدیم ہونے میں بھی وہ تنہا ہے۔"      ( ١٩٥٦ء، مناظر احسن گیلانی، عبقات، ١ ) ١ - اکیلا، جدا، تنہا۔ "دس ہزار دشمن کے بے پناہ تیروں کو یکہ و تنہا مناجات و زاری کی سپر پر روکنے کی جرات پیغمبروں کے سوا اور کس سے ظاہر ہو سکتی ہے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٦٤:٢ ) ٢ - صرف، فقط۔ "خواب میں حواس ظاہر معطل ہوتے ہیں اور روح یا نفس یا قوت متخیلہ تنہا کام کرتی ہے۔"      ( ١٩٠٦ء، الکلام، ٢١٢:٢ )